تختۂ مقتل

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - پھانسی کا تختہ، موت کی جگہ، قتل گاہ۔ "شب ہجرت. آپ نے. علی مرتضیٰ کو اپنی جگہ بستر پر لٹایا. لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی معلوم تھا کہ ایک اور قادر کل ہستی ہے جو تختہ مقتل کو فرش گل بنا سکتی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ ، ٢٧٣:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'تختہ' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے لیے ہمزہ زائد لگانے کے بعد عربی زبان سے ماخوذ اسم 'مقتل' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١٤ء میں "سیرۃ النبیۖ "میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھانسی کا تختہ، موت کی جگہ، قتل گاہ۔ "شب ہجرت. آپ نے. علی مرتضیٰ کو اپنی جگہ بستر پر لٹایا. لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی معلوم تھا کہ ایک اور قادر کل ہستی ہے جو تختہ مقتل کو فرش گل بنا سکتی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ ، ٢٧٣:٢ )

جنس: مذکر